Brailvi Books

بغض وکینہ
30 - 79
سوچتا اور کہتا ہوا ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔حضرتِ سیِّدُنا بِشرِ حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی نے ایک نانبائی کی دکان سے روٹی خریدی اور شہر سے باہَر کی جانِب چل پڑے۔ تاجِر کو یہ دیکھ کر اور بھی غصّہ آیا اور بولا، یہ شخص محض روٹی کے لئے مسجِد سے جلدی نکل آیا ہے اور اب شہر کے باہَر کسی سبزہ زار میں بیٹھ کر کھائے گا۔ تاجِر نے تعاقُب جاری رکھتے ہوئے یہ ذِہن بنایا کہ جوں ہی بیٹھ کر یہ روٹی کھانے لگے گا، میں پوچھوں گا کہ کیا ولی ایسے ہی ہوتے ہیں جو روٹی کی خاطر مسجِد سے فوراً نکل آئیں ! چُنانچِہ تاجِر پیچھے پیچھے ہو لیا حتّٰی کہ حضرتِ سیِّدُنا بِشرِ حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی کسی گاؤں میں داخِل ہوکر ایک مسجِد میں تشریف لے گئے ۔ وہاں ایک بیمار آدمی لیٹا ہوا تھا، حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی نے اُس بیمار کے سِرہانے بیٹھ کر اُسے اپنے مبارَک ہاتھ سے روٹی کھلائی ۔ تاجِر یہ مُعامَلہ دیکھ کر حیران ہوا۔ پھر گاؤں دیکھنے کے لئے باہَر نکلا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب دوبارہ مسجِد میں آیا تو دیکھا کہ مریض وَہیں لیٹا ہے مگر حضرتِ سیِّدُنا بِشرِ حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی وہاں موجود نہیں ۔ اس نے مریض سے پوچھا کہ کہاں گئے؟ اُس نے بتایا کہ وہ تو بغداد شریف تشریف لے گئے۔ تاجِر نے پوچھا: بغداد یہاں سے کتنی دُور ہے؟ وہ بولا، چالیس میل۔ تاجِر سوچنے لگا کہ میں تو بڑی مشکِل میں پھنس گیا کہ ان کے پیچھے اتنی دور نکل آیا اور تَعَجُّب ہے کہ آتے ہوئے کچھ پتا ہی نہیں چلا مگر اب کس طرح واپَسی ہو گی؟ پھر اس نے پوچھا کہ اب دوبارہ وہ یہاں کب آئیں گے؟بولا، اگلے جُمُعہ کو۔ ناچار تاجِر وَہیں رُکا رہا جب جُمُعہ آیا تو حضرتِ سیِّدُنا