یہودی معالِج کا امام مازری کے ساتھ کینہ وحسد
امام مازری رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی علیل(یعنی بیمار) ہوئے (تو) ایک یہودی مُعالِج(یعنی طبیب ،آپ کا عِلاج کررہا ) تھا، اچھے ہوجاتے پھر مَرَض عَود کرتا(یعنی دوبارہ ہوجاتا) ،کئی بار یوہیں ہوا، آخِر اُسے تنہائی میں بُلاکر دریافت فرمایا ،اُس نے کہا :اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ہمارے نزدیک اِس سے زیادہ کوئی کارِ ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کَھودُوں ۔ امام رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰینے اسے دَفع (یعنی دُور)فرمایا، مولیٰ تعالیٰ نے شِفا بخشی، پھر امام رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی نے طِب کی طرف توجُّہ فرمائی اور اس میں تصانیف کیں اور طَلَبہ کو حاذِق اَطِبّا (یعنی ماہِر طبیب)کردیا اور مسلمانوں کو مُمَانَعَت فرمادی کہ کافِر طبیب سے کبھی عِلاج نہ کرائیں ۔ ۱؎ (فتاویٰ رضویہ،۲۱/۲۴۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اولیائے کرام سے بُغْض رکھنے والے کی توبہ
بغدادشریف کا ایک تاجِر اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام سے بَہُت بُغْض رکھتا تھا۔ ایک روز حضرتِ سیِّدُنا بِشرِ حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی کونَمازِ جُمُعہ پڑھ کر فوراً مسجِد سے باہَر نکلتے دیکھ کر دل میں کہنے لگا کہ دیکھو توسہی! یہ ولی بنا پھرتا ہے! حالانکہ مسجِد میں اس کا دل نہیں لگتا جبھی تو نَماز پڑھتے ہی فوراً باہَر نکل گیا ہے۔وہ تاجِریہی کچھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ : کفار سے عِلاج کروانے کے بارے میں مزید تفصیلات فتاوی رضویہ جلد 21صفحہ 238 تا243پر ملاحظہ کیجئے ۔