Brailvi Books

بغض وکینہ
28 - 79
 عالِم بن یامتعلِّم، یا علمی گفتگو سننے والا یا علم سے محبت کرنے والا بن اور پانچواں (یعنی علم اور عالِم سے بُغْض رکھنے والا ۱؎) نہ بن کہ ہلاک ہوجائیگا۔(الجامع الصغیر،ص۷۸،حدیث:۱۲۱۳)
عالمِ دین سے خواہ مخواہ بُغض رکھنے والا مریض القلب اور خبیث الباطن ہے
	 اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 21صَفْحَہ129 پرفرماتے ہیں :{ا} ’’ اگر عا لمِ (دین) کو اِس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ ’’عالِم ‘‘ ہے جب تو صَریح کافِر ہے اور{۲} اگر بوجہِ عِلم اُس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کِسی دُنیوی خُصُومت (یعنی دشمنی) کے باعِث بُرا کہتا ہے،گالی دیتا (ہے اور) تَحقیرکرتا ہے تو سخت فاسِق فاجِر ہے اور{۳} اگر بے سبب(یعنی بِلاوجہ ) رنج (بُغض )  رکھتا ہے تو مَرِیْضُ الْقَلْب خَبِیْثُ الْباطِن (یعنی دل کا مریض اور ناپاک باطن والا ہے) اور اُس (یعنی خواہ مخواہ بُغُض رکھنے والے) کے کُفْرکا اندیشہ ہے ۔ ’’خُلاصہ ‘‘میں ہے :مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِّنْ غَیْرِ سَبَبٍ ظَاھِرٍ خِیْفَ عَلَیْہِ الْکُفْر (یعنی ’’جو بِلا کسی ظاہِری وجہ کے عالم ِدین سے بُغض رکھے اُس پر کُفر کا خوف ہے‘‘۔) 	         (خُلاصَۃُ الفتاوٰی،۴/۳۸۸)
مجھ کو اے عطّارؔ سُنّی عالِموں سے پیار ہے
ان شاءَاللہ دوجہاں میں میرا بیڑا پار ہے		(وسائل بخشش ،ص۶۴۶ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 				صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ۱؎: فیض القدیر،۲/۲۲،تحت الحدیث:۱۲۱۳