Brailvi Books

بغض وکینہ
27 - 79
اہلِ عَرَب عَرَبی آقا کے ہم قوم ہیں 
	عَرَبی لوگ قومِیّت کے اِعتِبار سے چُونکہ عَرَبی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے نسبت رکھتے ہیں لہٰذا مَحَبَّت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو اہلِ عرب مسلمان ہیں ان کو بُرا بھلا کہنے سے زَبان کوروکا جائے، ہاں اِن میں جوکفّار ، مُرتَدِّین اور منافقین ہیں یقینا وہ بُرے ہیں اور ان کو بُرا ہی کہا جائے گا۔دیکھئے! ابولَہَب بھی عَرَبی تھا مگراُس کی مذمّت میں قراٰنِ پاک کی ایک پوری سورت سُورۂ لَہَبموجود ہے۔ بَہَرحال اگر عَرَبِیوں میں سے کسی کی طرف سے بِالفرض آپ کو کوئی ذاتی تکلیف پَہنچ بھی گئی ہو تب بھی صبرسے کام لیجئے۔ یقینا اِس ایک کی ایذا دہی کی وجہ سے سب عَرَب ہرگز بُرے نہیں بن گئے۔اہلِ عَرَب سے مَحَبَّت کیلئے ہم غلامانِ مصطَفٰے کیلئے یِہی بات کافی ہے کہ ہمارے پیارے پیارے میٹھے میٹھے آقا  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  عَرَبی ہیں ۔
ہائے کس وَقْت لگی پھانس اَلَم کی دل میں
کہ بَہُت دور رہے خارِ مُغیلانِ عرب		(حدائق بخش ص۶۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 علم اور عالِم سے بُغْض رکھنے والا نہ بن کہ ہلاک ہوجائیگا
	سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عظمت نشان ہے :اُغْدُ عَالِمًا اَوْ مُتَعَلِّمًا اَوْ مُسْتَمِعًا اَوْ مُحِبًّا وَلَا تَــــــکُنِ الْخَامِسَۃَ فَتَہْلِکَ