Brailvi Books

بغض وکینہ
26 - 79
 سرکارِ نامدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  عَرَبی ہیں اور قراٰن بھی اہلِ عَرَب کی زَبان میں ہے، ان نِسبتوں کی وجہ سے اگر کوئی عَرَبوں سے بُغض رکھے تو اِس سے سلطانِ عَرَب  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا بُغْض لازِم آئے گا جو کہکُفر ہے۔
   (فیضُ القدیر لِلمناوی،۳/۲۳۱، تحتَ الحدیث ۲۲۵ )
تین وجوہ کی بناپر عرب سے محبت رکھو
	سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ محبت نشان ہے :تین وُجُوہ کی بِنا پر عَرَب سے مَحَبَّت رکھو، اس لئے کہ {۱}میں عَرَبی ہوں {۲} قُراٰنِ مجید عَرَبی ہے {۳}اہلِ جنَّت کاکلام عَرَبی ہے۔      (شُعَبُ الْاِیْمَان،باب فی تعظیم النبی ﷺ ،۲/۲۳۰،الحدیث ۱۶۱۰ ) 

حسنِ یوسُف پہ کٹیں مِصر میں اَنگُشتِ زَناں
سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردانِ عرب
(حدائقِ بخشش شریف،ص۵۸)
(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ص ۲۸۶تا۲۹۹ملتقطاً) 
کیا کُفّارِ عَرَب سے بھی مَحَبَّت رکھنی ہوگی؟
	مَحَبَّتایمان کے ساتھ مَشروط ہے،لہٰذا کفّار و مُرتَدّینِ عَرَب سے مَحَبَّتتو دُور کی بات ہے اُن سے عداوت رکھنی واجِب ہے ۔ جیسا کہ حضرتِ علّامہ مَناوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں :جو اہلِ عَرَب کافِریا منافِق ہیں اُن سے بُغض رکھنا بُرا نہیں بلکہ واجِب ہے۔  (فیض القدیر،۱/۲۳۱، تحت الحدیث ۲۲۵ )