حُبِّ سادات اے خدا دے واسِطہ
اہلبیتِ پاک کا فریاد ہے (وسائل بخشش ص ۵۰۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
عَرَبوں سے بُغض وکدورت رکھنے والا شَفاعَت سے محروم
عَرَب ممالِک میں کام کرنے والے بعض لوگ عَرَبوں کو بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں اور بعض حجاج بھی، اِس سے بچنا ضِروری ہے۔حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عَفّان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ شاہِ بنی آدم ، نبیِّ مُحتَشَمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ یَدْخُلْ فِیْ شَفَاعَتِیْ وَ لَمْ تَنَلْہُ مَوَدَّتِیْجس نے اَہلِ عَرَب سے بُغض و کُدُورت رکھی میری شَفاعَت میں داخِل نہ ہو گا اورنہ ہی اُسے میری مَحَبَّت نصیب ہوگی۔ (ترمذی،کتاب المناقب،۵/۴۸۷،حدیث:۳۹۵۴)
جس نے عربوں سے بُغْض رکھا اس نے مجھ سے بُغْض رکھا
محبوبِ رب، تاجدارِ عَرَبصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: عَرَب کی مَحَبَّتایمان ہے اور ان کا بُغْض کُفر ہے، جس نے عَرَب سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّتکی اور جس نے ان سے بُغض رکھا اُس نے مجھ سے بُغض رکھا ۔ ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ،۲/۶۶،الحدیث ۲۵۳۷ )
عَرَب سے بُغض کب کُفْر ہے
حضرتِ علّامہ مَناوی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کے فرمانِ گرامی کا خُلاصہ ہے: