کے قریب نَماز پڑھ رہے تھے اورکفّارِ قریش ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ تم ان کو دیکھ رہے ہو؟پھر بولا:تم میں کون ایسا ہے جوفُلاں قبیلے سے ذَبح کردہ اونٹنی کا بچّہ دان اٹھا لائے اورجب یہ سَجدے میں جائیں تو ان کے کندھوں پر رکھ دے ؟اس پر بدبخت عُقبہ بِن اَبِی مُعِیط اٹھ کر چل دیااور بچّہ دان (یعنی وہ کھال جس میں اونٹنی کا بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے) لاکر رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم كے دونوں مبارَک شانوں کے درمیان رکھ دی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اسی حال میں رہے اورسرِ مبارَک سَجدے سے نہ اٹھایا اوروہ سب کے سب قَہقَہے مار کر ہنستے رہے ،یہاں تک کہ خاتونِ جنّت سیِّدہ فاطِمۃُ الزَّہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا (جن کی عمر اُس وقت بمشکل آٹھ سال تھی ) آئیں اورانہوں نے حبیب اکبرعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم كی پُشتِ اطہر سے اس گندگی کو اُٹھا کر پھینکا ۔ تب سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا سرِاقدس اٹھایا اور اپنے