| بڈھا پجاری |
نرغے سے نکال لیا۔اُس وَقت سیِّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارَک زَبان پر پارہ24 سورۃُ المؤمن کی آیت نمبر28 جاری تھی :
اَتَقْتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللہُ وَ قَدْ جَاَکُمۡ بِالْبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمْ ؕ
( ترجَمۂ کنزالایمان :کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہوکہ وہ کہتاہے کہ میرا رب اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) ہے اوربیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب (عَزَّوَجَلَّ ) کی طرف سے لائے ۔'')اب کفّارِ بدکردار نے حضرتِ سیِّدُناابوبکرصدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکڑ لیا۔ ان کے سرِاَقدس اورداڑھی مبارَک کے بَہُت سے بال نوچ ڈالے اور مار مار کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شدید زخمی کردیا۔
(شَرْحُ الزَّرْقانی عَلَی الْمَواہِبِ اللَّدُنِّیَّۃ ج۱ ص ۴۶۸ ۔۴۷۰)
بَہرحال کفّارِجفاکارنے بڑازورلگایا،خوب دھمکیاں دیں کہ کسی طرح بھی سرکارِعالی وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اسلام کے پَرچارسے باز آجائیں مگر ہمارے پیارے اورمیٹھے میٹھے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دینِ اسلام کاکام کرتے ہی رہے۔جُوں جُوں کا م بڑھتارہاتُوں تُوں کفّاربداطوارکے غیظ و غضب میں بھی اضافہ ہوتارہا۔وہ ہر ساعت ماہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کواَذیت پہنچانے کی