گے تو مانیں گے بھی اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے گِروِیدہ ہوجائیں گے ۔ لہٰذا اس کی روک تھام کی ایک ہی صورت ہے اوروہ یہ کہ ہم شاہِ خیرُالْاَنام صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خوب بدنام کردیں تاکہ لوگ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مُتَنَفِّر ہو جائیں اورسِرے سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بات ہی نہ سنیں اورظاہِر ہے جب بات ہی نہ سنیں گے تو مائل بھی نہ ہوں گے ۔چُنانچِہ اس مشورے کے بعد کفّارِ ناہنجار نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم كو (معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ ) مجنون،کاہِن اور جادوگرمشہورکرنا شروع کردیا۔ لیکن قُربان جائيے!مبلِّغ اعظم، نبیِّ مُکَرَّم، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بُلند ہمَّتی پر کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کی واہِیات وخُرافات سے ذَرّہ برابر نہ گھبرائے مسلسل نیکی کی دعوت میں مشغول ہی رہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے!ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم كے خِلاف بدنام کرنے کی باقاعِدہ مُہم چلائی گئی پھربھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم كے پائے ثَبات کو ذرّہ برابر لغزِ ش نہ آئی، مسلسل نیکی کی دعوت