| بڈھا پجاری |
عزم واستِقلال دیکھ کر ابوطالِب کو جوش آگیا اوربُلا کر کہنے لگے:''اے بھتیجے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم!خوب دل کھول کراپنے دین کی تبلیغ کیجئے، اہلِ قریش آپ کا بال بھی بِیکا نہ کرسکیں گے ۔ ''
(اَلسِّیْرَۃُ النَّبَوِیَّۃ لابن ہَشّام ص۱۰۳،۱۰۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے مُلاحَظہ فرمایا !آمِنہ کے لال، محبوبِ ربِّ ذُوالجلال عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم و رَضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عَزم واستِقلال کس قَدَرزبردست تھا ۔ دنیاکی کوئی طاقت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دعوتِ اسلام سے نہ ہٹا سکتی تھی۔ ؎
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی عَرَب کی زمیں جس نے ساری ہِلادی
بدنام کرنے کی سازِش
منقول ہے کہ اہلِ قُریش نے ایک اِجلاس کیا جس میں اِس بات پر اظہار ِتشویش کیا گیا کہ اب حج کا موسِمِ بہارآرہا ہے اورلوگ دنیا کے گوشے گوشے سے یہاں آئیں گے، چُونکہ سرکارِدوعالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کُھلَّم کُھلّا نیکی کی دعوت دے رہے ہیں لہٰذا لوگ ان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سنیں گے اورسنیں