Brailvi Books

بڈھا پجاری
19 - 32
کہنے لگے:''ابوطالِب!ہم نے تم سے کہا تھا کہ اپنے بھتیجے کو سمجھا دومگر تم نے ان کو نہیں سمجھایا ،ہم اپنے معبودوں اورآباؤ اَجدادکی توہین برداشت نہیں کرسکتے، ہم تمہاری عزّت کرتے ہیں، تم ان کو اب بھی روک دو، اگر نہیں روکنا چاہتے تو تم بھی ہمارے ساتھ مقابلے کے لئے تیّار ہوجاؤ تاکہ دونوں فریق میں سے ایک کافیصلہ ہوجائے۔''وہ لوگ یہ دھمکی دے کرچلے گئے ۔ ابوطالب نے سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بلا کر عرض کی:''اے میرے پیارے بھتیجے! قوم نے مجھے آپ کے بارے میں یہ یہ شکایات کی ہیں ، مہربانی کر کے بازآجایئے ۔ اپنے آپ پر بھی اورمجھ پربھی رحم کیجئے۔ ''یہ سن کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جواباًارشادفرمایا:''اے میرے چچا!خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم!اگروہ لوگ میرے سیدھے ہاتھ میں سورج اورالٹے ہاتھ میں چاندبھی لاکر رکھ دیں، جب بھی میں اس کام کو ہر گز ہرگز نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے (یعنی اسلام کو) غالِب کردے یا میں اس کام میں اپنی جان دے دوں۔''پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم روپڑے اورواپس جانے لگے ،تواپنے پیارے بھتیجے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ