جب حکمِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے علی الاعلان اسلام کا پیغام دیناشروع کیا اوربت پرستی کی مَذَمَّت بیان کرنے لگے تو کفر کے ایوانوں میں کھلبلی پڑگئی ۔سردارانِ قریش ایک وَفد کی صورت میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچا ابوطالبِ کے پاس آئے اوراپنی شکایت پیش کی کہ آپ کے بھتیجے صاحب ہمارے معبودوں کو بُرابھلا کہنے کے ساتھ ساتھ ہمارے آباؤ اَجداد کو گمراہ اورہم لوگوں کو احمق ٹھہراتے ہیں، آپ برائے مہربانی ان کو سمجھادیجئے کہ وہ ایسا نہ کریں،اگر آپ سمجھا نہیں سکتے تو بیچ میں سے ہٹ جایئے ہم خود انہیں سمجھ لیں گے۔ابوطالِب اگرچِہ ایمان تو نہ لائے لیکن اپنے بھتیجے یعنی سیِّدُنامحمدٌرَّسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بے حد مَحَبَّت کرتے تھے لہٰذا قریش کے سرداروں کو نرمی کے ساتھ سمجھا بجھا کر رخصت کردیا۔