| بیاضِ پاک حجۃالاسلام |
بیڑی کٹ جائے ہر تَشَخُّص کی قید سے یوں چھڑائے آل رسول یہ خودی بھی فدائے دعویٰ ہے کر دے بے خود خدائے آلِ رسول صورتِ شَیخ کا تَصَوُّر ہو ہوں میں مَحوِ لِقائے آلِ رسول سَر تا پایم فدا سر و پایَت وَہ چہ نور و ضیائے آلِ رسول دل و جانَم فدا سَرَتْ گردم لمعۂ حق نُمائے آل رسول بھر دے قطرے کے سینے میں قُلزُم نَم میں یَم کو سَمائے آلِ رسول حَقُّہٗ حق ہو ظاہر و باطن حق کے جلوے دکھائے آل رسول دل میں حق حق زباں پہ حق حق ہو دید حق کی کرائے آل رسول