کہیں وہ جلتے بجھاتے ہوں گے کہیں وہ روتے ہنساتے ہوں گے
وہ پائے نازُک پہ دوڑنا اور بعید ہر ایک مقام ہوگا
ہوئی جو مُجرِم کو بازیابی تو خوفِ عصیاں سے دَھج یہ ہوگی
خَمیدَہ سر آبدیدہ آنکھیں لَرَزتا ہندی غلام ہو گا
حضورِ مرشد کھڑا رہوں گا کھڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
نِگاہِ لُطف و کرم اٹھے گی تو جھک کے میرا سلام ہوگا
خدا کی مرضی ہے اُن کی مرضی ،ہے اُن کی مرضی خدا کی مرضی
انہیں کی مرضی پہ ہورہا ہے انہیں کی مرضی پہ کام ہوگا
جدھر خدا ہے اُدھر نبی ہے، جدھر نبی ہے ادھر خدا ہے
خدائی بھر سب اُدھر پھرے گی جدھر وہ عالی مقام ہوگا
اِسی تَمَنّا میں دم پڑا ہے،یہی سہارا ہے زندگی کا
بلا لو مجھ کو مدینے سَروَر نہیں تو جینا حرام ہوگا
حضورِ رَوضہ ہوا جو حاضر تو اپنی سج دھج یہ ہوگی حامد
خَمیدَہ سر آنکھ بند لَب پہ مرے درُود و سلام ہوگا
٭٭٭