گُنَہگاروں کا روزِ مَحشر شَفیع خَیْرُالْاَنَام ہوگا
گُنَہگاروں کا روزِ مَحشر شَفیع خَیْرُ الْاَنَام ہو گا
دلہن شفاعت بنے گی دولہا نبی عَلَیہ السَّلَام ہو گا
کبھی تو چمکے گا نجمِ قسمت ہِلال ماہِ تمام ہوگا
کبھی تو ذرّے پہ مہر ہوگی وہ مہر ادھر خوش خَرام ہوگا
پڑاہوں میں اُن کی رہ گزرمیں پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
دل و جگر فرشِ رہ بنیں گے یہ دِیدہ مشق خرام ہوگا
وہی ہے شافِع وہی مُشَفَّع اسی شفاعت سے کام ہوگا
ہماری بگڑی بنے گی اس دن وہی مَدارُ المَہَام ہو گا
انہیں کا منہ سب تکیں گے اُس دن جو وہ کریں گے وہ کام ہوگا
دُہائی سب اُن کی دیتے ہوں گے اُنہیں کا ہر لب پہ نام ہوگا
اَنا لَھاکہہ کے عاصِیوں کو وہ لیں گے آغوشِ مَرحَمت میں
عزیز اِکلوتا جیسے ماں کو انھیں ہر ایک یوں غلام ہوگا
اِدھروہ گرتوں کوتھام لیں گے اُدھرپیاسوں کوجام دیں گے
صِراط و میزان و حوضِ کوثَر یہیں وہ عالی مقام ہوگا