Brailvi Books

بھنگڑے باز کی توبہ
7 - 32
 ہو گیا۔ تلاوت و نعت کے بعد ہونے والے سنّتوں بھرے بیان میں بڑا لطف آیا۔ بیان کے بعد تصور مدینہ کر کے  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ ،  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاحَبِیْبَ اللہ پڑھنے میں مجھے اتنا سکون ملا کہ اس سے قبل ایسا اطمینان نہ ملا تھا، اور ذکر کے دوران لگائی جانے والی اللہ ، اللہ کی ضربوں نے میرے دل کی سیاہی کو دور کرنا شروع کر دیا جونہی رقت انگیز دعا شروع ہوئی میرے گناہوں کی طویل فہرست میری نظروں کے سامنے گھومنے لگی اور مجھے احساسِ ندامت ہونے لگا، مجھ پر خوفِ خدا کا غلبہ ہونے کے باعث میرا دل دہل گیا، گناہوں کی بھیانک سزائیں یاد کر کے میری آنکھوں کی وادیوں سے آنسوؤں کے چشمے بہہ نکلے۔ میں نے صدقِ دل سے گناہوں سے توبہ کی اور اختتامِ اجتماع پر سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں مرید ہونے کے لئے اپنا نام پیش کر دیا۔ اس کے بعد میں ہفتہ وار اجتماع میں پابندی سے شرکت کرنے لگا یہاں تک کہ رفتہ رفتہ سر پر سبز سبز عمامے کا تاج سجا لیا اور داڑھی کے نور سے اپنے چہرے کو مزین کر لیا۔ مدنی ماحول کی برکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ نہ صرف نماز روزے کا پابند ہو گیا ہوں بلکہ اپنے علاقے کی مسجد میں درس و بیان کی سعادتیں بھی پانے لگا ہوں۔ والدین سے معافی تلافی کر کے ان کی عزت کرنے لگا ہوں بلکہ امیرِ اہلسنّت کے عطاکردہ مدنی انعام کی ترغیب کی