لڑائی جھگڑوں میں بھی پیش پیش رہتا اسی وجہ سے بعض اوقات میری سرِعام جوتوں سے پٹائی بھی ہوئی مگر میں تو ’’نہ سدھرے ہیں نہ سدھریں گے قسم کھائی ہے ‘‘ کا مصداق بن چکا تھا۔ اس کردارِ بد کی وجہ سے والدین، رشتے دار، محلے دار الغرض ہر ایک مجھے بری نگاہ سے دیکھتا مگر میں تھا کہ ٹس سے مس نہ ہوتا، کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنے کالے کرتوت جاری رکھتا۔ میری سعادتوں کی معراج کا سفر کچھ یوں شروع ہوا کہ ایک روز ایک باریش و باعمامہ مبلغِ دعوتِ اسلامی سے میری ملاقات ہو گئی ، سلام و مصافحے کے بعد انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی مگر میری شقاوت قلبی کہ میں نے صاف انکار کر دیا۔ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے جذبے سے سرشار اسلامی بھائی نے ہمت نہ ہاری اور وقتاً فوقتاً مجھے نیکی کی دعوت پیش کر کے اپنا ثواب کھرا کرتے رہے۔ میں تھا کہ ہر بار ہی ٹال دیتا مگر ان کی مسلسل نیکی کی دعوت کی بدولت مجھ پر اتنا اثر ضرور ہوا کہ اب میں نے نمازیں پڑھنا شروع کر دیا، لیکن ان کے ساتھ ہفتہ وار اجتماع میں جانے کو تیار نہ ہوتا، بالآخر ان کی پیہم انفرادی کوشش رنگ لائی اور ایک دن میں نے سوچا کیوں نہ آج چل کے دیکھتا ہوں کہ آخر یہ مجھے بار بار ہفتہ وار اجتماع کی دعوت کیوں دیتے ہیں ؟ چنانچہ میں اسلامی بھائیوں کے ساتھ اجتماع میں شریک