Brailvi Books

بھنگڑے باز کی توبہ
28 - 32
میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا، میں نے سچے دل سے توبہ کرلی اور خود کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں رنگ لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تقریباً ہر ماہ مدنی قافلے میں سفر کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ 
 اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{۱۳}بدمذہبیت سے توبہ
	باب المدینہ (کراچی) کے علاقے رزاق آباد بن قاسم ٹاؤن کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے: شروع ہی سے میرا تعلق خوش عقیدہ سنی خاندان سے ہے مگر میری بدنصیبی کہ میں بدمذہبوں کی صحبت میں اٹھتا بیٹھتا تھا۔ اُن کی تحریر وتقریر عشقِ مصطفی کی چاشنی سے ناآشنا تھی۔ اولیاء ُاللہ سے نسبت قائم کرنا، اُن کے نزدیک توحید کے مُنافی تھا۔ ایسے بد عقیدہ ماحول میں رہنے کی وجہ سے میری آنکھوں پر بھی تعصب کی پٹی بندھی ہوئی تھی جو مجھے راہِ حق دیکھنے سے باز رکھے ہوئے تھی۔ اسی دوران ایک اسلامی بھائی سے میری راہ ورسم بڑھی تو میں نے ان کو بھی بدمذہبیت کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے مجھے ان کے کفریہ وگمراہ کن عقائدکے بارے میں بتایا، حسبِ ضرورت کتابیں بھی دکھائیں۔ پھر انہوں نے محبت بھرے انداز میں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں