Brailvi Books

بھنگڑے باز کی توبہ
29 - 32
 شرکت کی دعوت دی تو میں انکار نہ کرسکا لہٰذا میں ان کے ساتھ اجتماع میں حاضر ہو گیا مگر میرا دل یہاں نہیں لگ رہا تھا یوں ہی وقت گزار کر لوٹ آیالیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور مجھے دوبارہ اجتماع میں ساتھ لے گئے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اب کی بار میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہونے والا ہے۔ میں یوں ہی باہر گھوم پھر رہا تھا کہ یک لخت رقت انگیز دعا کی پر سوز آواز میری سماعت سے ٹکرائی، میرا دل اسی جانب کھنچتا چلا گیا اور میں بھی دعا میں شریک ہو گیا۔ پھر کیا تھا رقت انگیز دعا کے جملے تاثیر کا تیر بن کر میرے دل میں پیوست ہو گئے۔ اب میری آنکھیں کھلیں کہ میں تو اپنی آخرت برباد کئے بیٹھا ہوں۔ میں نے بدمذہبیت سے توبہ کی، سر پر سبز سبز عمامے کا تاج سجا لیا اور داڑھی شریف کی نیت کر کے رفتہ رفتہ سنت کے مطابق ایک مشت داڑھی شریف سجانے میں کامیاب ہو گیا۔ تادمِ تحریر علاقائی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کاموں میں مصروف عمل ہوں۔ 
 اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ {دعوتِ اسلامی}	شعبہ امیرِاہلسنّت
۵ شعبان المعظم۱۴۳۳ھ بمطابق 26جون 2012؁ء