{۱۲}کلاسیکل گلوکارکی توبہ
گولی مار(باب المدینہ کراچی) کے علاقے فردوس کالونی کے مقیم اسلامی بھائی نے اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کے احوال کچھ یوں تحریر کیے ہیں کہ میں ایک کلاسیکل گلوکار تھا، میوزیکل شوز اور فنکشنز میں گانے گاتا تھا۔ یونہی زندگی کے انمول ایام برباد ہوتے جا رہے تھے دل ودماغ پر غفلت کے کچھ ایسے پردے پڑے ہوئے تھے کہ نہ’’جنّت میں لے جانے والے اعمال‘‘کی فکراورنہ ہی ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال ‘‘سے بچنے کا ذہن تھا۔ اس عظیم لمحے پر لاکھوں سلام کہ جب مجھے سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے، سفید مدنی لباس میں ملبوس ایک اسلامی بھائی ملے اور انہوں نے دلنشین انداز میں محبت اور پیار سے انفرادی کوشش کرتے ہوئے نیکی کی دعوت پیش کی اور ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی۔ میں ان کے حسنِ اخلاق سے پہلے ہی متأثر ہو چکا تھا لہٰذا میں نے ان کی دعوت قبول کر لی اور سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضر ہو گیا۔ یہاں فیضانِ مدینہ کا روحانی سماں مجھے بہت اچھا لگا، ہر طرف سنّتوں کے پیکرمبلغین، حدِ نگاہ تک سبز عماموں کی بہاریں تھیں ان پر کیف مناظر نے میرا دل موہ لیا۔ اجتماع میں ہونے والی تلاوت، نعت، سنّتوں بھرے بیان اور ذکر و دعا نے میرے دل کی دنیا کو تہ وبالا کر دیا، میری زندگی