Brailvi Books

بھنگڑے باز کی توبہ
26 - 32
 و سکون نصیب ہونے لگا۔ جب میں نے نماز مکمّل کی تو دیکھا کہ سنّتوں کی خدمت کے جذ بے سے سرشار سبز عمامے والے ایک اسلامی بھائی نے درس دینا شروع کیا ۔ میں بھی درس میں شریک ہو گیا، درس کے الفاظ تھے کہ رحمت کاپانی جو میرے دل پر جمی گناہوں کی کائی دور کرنے لگے، جس سے میرا دل نرم پڑگیا۔ درس کے بعد اس اسلامی بھائی نے محبت بھرے اندازمیں مجھ سے ملاقات کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دلائی۔ ان کی محبت بھری دعوت کے سامنے میں انکار نہ کر سکا اور ہامی بھر لی۔ پھر جب سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضر ہوا تو وہاں کا روحانی منظر دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ہر طرف سبز سبز عماموں کے تاج اور اسلامی بھائیوں کا ازدحام، سنّتوں کی بہاریں ، تلاوت قراٰن، ذکر وبیان، صلوٰۃوسلام غرض ایک پرکیف روح پرور سماں تھا۔ مجھے اس ماحول نے بہت متأثر کیا، میری آنکھوں سے غفلت کی پٹی کھل گئی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے میں بھی مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ سر پر سبز عمامہ شریف، زُلفیں اور چہرے پر داڑھی شریف سجالی۔ یہ بیان دیتے وقت اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تیس دن کے مدنی قافلے کا مسافر ہوں۔ 
 اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد