اجتماع کی دعوت پیش کی۔ میں نے کچھ دیر سوچا اور پھر ہاں کر دی۔ جب جمعرات آئی تو میں ان کا انتظار کرتا رہا مگر وہ شاید کسی مجبوری کی وجہ سے نہ آسکے پھر جب اس سے اگلی جمعرات آئی تو وہ اسلامی بھائی میرے گھر تشریف لائے اور میرا ذہن بنا کر ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں ساتھ لے گئے۔ میں سنّتوں بھرے اجتماع میں پر سوز بیان اور ذکر سے بہت متأثر ہوا پھر جب رقت انگیز دعا شروع ہوئی تو رہی سہی کسر اس نے پوری کردی اور میرے دل کی دنیا کوزیر و زبر کردیا، میں نے سچے دل سے بد مذہبیت و معصیت سے توبہ کرلی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ جب پہلی بار مجھے عاشقانِ رسول کے ہمراہ مدنی قافلے میں سفر کرنے کی سعادت ملی تو قافلے کی برکت سے میں نے عمامے کے تاج سے سر’’ سبز‘‘ کر لیا۔ جب میں اس حالت میں گھر پہنچا تو میرے والد غصّے سے آگ بگولا ہو گئے انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور مجھے مارنا شروع کر دیا بالآخر مجھے گھر سے نکال دیا۔ جب گھر واپسی کی کوئی سبیل نہ بنی تو جان بچانے کے لیے میں باب المدینہ (کراچی) جا پہنچا اور وہاں دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کی مدنی تربیت گاہ میں اپنا وقت سنّتوں کی تربیت حاصل کرنے میں بسر کرنے لگا۔ کچھ عرصے بعد میری امی جان نے مجھ سے بات کی اور مجھے بتایا کہ بیٹا آپ کے ابو کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا ہے