نہ تو اپنا کچھ ہوش ہوتا اور نہ ہی گھر والوں کی کچھ خبر۔ خوامخواہ لوگوں سے لڑائی مول لینا، بات بات پر مار دھاڑ پر اتر آنا میرے معمولات میں سے تھا۔ علاوہ ازیں میرا تعلق بد مذہب گھرانے سے تھا، اسی وجہ سے میں اکثر ان کے ساتھ کئی کئی دن ’’گھومتا ‘‘رہتا مگر وہاں مجھے چین نہیں ملتا تھا۔ ہمارے محلے میں ایک پیر صاحب رہتے تھے جن کے گھر ماہانہ گیارہویں شریف کے سلسلے میں ختم ہوا کرتا تھا جس میں مختصر سی محفلِ ذکر و نعت ہوتی تھی۔ میں اگرچہ بدمذہبیت کا شکار تھامگر مجھے نعت پڑھنے کابہت شوق تھا اس لئے میں کبھی کبھار چھپ کر ان کی محفل میں شریک ہوتا اور وہاں نعت بھی پڑھتا۔ میرے ایک دوست جو کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے ایک مرتبہ انہوں نے مجھے کہا کہ چلو آج آپ کو ایک بڑی محفل میں نعت پڑھواتے ہیں ، میں ان کے ساتھ چل دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہاں نعت شریف پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ جب وہاں موجود ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرے دوست سے کہا کہ آپ ان سے اس طرح کھلے عام نعت نہ پڑھوایا کریں کیونکہ اس کے خاندان والے نعت پڑھنے والوں کے دشمن ہیں کہیں اس کے بارے میں پتہ چل گیا تو اسے مار دیں گے۔ خیر ہم جب وہاں سے روانہ ہوئے تو میرے دوست نے مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے