اٹھا، آپ یقین کریں نہ کریں میری آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ گئی اجتماع کے اختتام تک میرا دل چوٹ کھا چکا تھا۔ میں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گناہوں سے بچنے کا پختہ عزم کر لیا اور سچ کہتا ہوں : میرے دل کی دنیا ایسی بدلی کہ میں جو کل تک والدین کا گستاخ تھا، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسا فرمانبردار بن گیا کہ اب لوگ اپنے بچوں کو میرے باادب انداز کی مثالیں دیتے ہیں۔ جو لوگ مجھ سے کتراتے اور نفرت کیا کرتے تھے اب محبت میں بچھ بچھ جاتے ہیں ، عاشقانِ رسول کی شفقتوں نے مجھ پر ایسا مدنی رنگ چڑھا دیا کہ فرض نمازیں باجماعت پڑھنے کی عادت کے ساتھ ساتھ نوافل پڑھنے کا بھی معمول بن گیا۔ داڑھی رکھ لی اور عمامے شریف کا تاج بھی سجا لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر میں تربیتی کورس کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{۱۰} شرابی کی توبہ
چنیوٹ (پنجاب، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی اپنی زندگی میں پیدا ہونے والے مَدَنی انقلاب کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے پہلے مَعَاذَاللہ میں اکثر شراب کے نشے میں دھت رہتا۔ مجھے