پر اتر آتا۔ غیر تو غیر میری اس عادت سے میرے دوست بھی تنگ تھے۔ انتہائی زبان دراز تھا کبھی کبھی محلے کی مسجد کے امام صاحب سمجھانے کی کوشش کرتے تو انتہائی بدتمیزی کے ساتھ بات کاٹ کر اول فول بکنے لگتا۔ ایک بار تو غصے میں یہاں تک بول دیا کہ مولانا صاحب آپ کو سمجھانے کے سوا آتا کیا ہے آئندہ سمجھانے کی ہمت کی تو جان سے مار دوں گا۔ لوگوں کو ستانے کے نت نئے طریقے سوچا کرتا۔ گھر والوں نے میرے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے قراٰن پاک کی تعلیم کے لیے 3 مئی 1999ء کو ایک مدرسے میں داخل کروا دیا۔ کچھ عرصے بعد دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی میری گناہوں بھری تاریک زندگی میں ہدایت کا چمکتا ستارہ بن کر طلوع ہوئے اور میری شام غریباں کو صبح بہاراں میں بدل دیا وہ یوں کہ انہوں نے مجھے تبلیغ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی، اس وقت سنّتوں بھرا اجتماع جامع مسجد بلال میں ہوتا تھا، میرے بھاگ جاگ اٹھے کہ میں نے انکار کرنے کی بجائے ان کی دعوت قبول کی اور اجتماع میں جا پہنچا، وہاں مبلغِ دعوتِ اسلامی سنّتوں بھرے بیان میں گناہوں کی تباہ کاریاں بتا کر اس کی مذمت بیان فرما رہے تھے، انداز ایسا دلنشین اور پر تاثیر تھا کہ دل میں اترتا چلا گیا، میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے کانپ