رمضان المبارک میں عاشقانِ رسول کے ساتھ 10 روزہ اجتماعی اعتکاف میں بیٹھ گیا۔ میں غائبانہ طور پر امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا گرویدہ تو ہو چکا تھا دورانِ اعتکاف مدنی مذاکرے میں جب آپ دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رخِ زیبا کی زیارت کی تو ان کے جلووں میں کھو گیا۔ دل نے گواہی دی کہ یہ سچے پیر اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کامل ولی ہیں۔ مدنی مذاکرے کے اختتام پر امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بیعت کروائی تو میں بھی مرید ہوکر عطاری بن گیا اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{۹} والدین کا گستاخ فرمانبردار بن گیا
سردار آباد (فیصل آباد پنجاب) کی تحصیل چک جُھمرہ کے علاقے رستم آباد شریف کے ایک نوجوان اسلامی بھائی کی تحریر کاخلاصہ پیش خدمت ہے: مدنی ماحول سے پہلے میں بری صحبت کے باعث گناہوں بھری زندگی گزار رہا تھا، کون سی ایسی برائی تھی جو میرے اندر نہ تھی، والدین کا انتہائی گستاخ، مزاج غصیلا اورگندی گالیاں بکنا علاقے بھر میں میری پہچانِ بد بن چکی تھی۔ اسی وجہ سے محلہ میں میری کسی سے نہیں بنتی تھی، ذرا ذرا سی بات پر مرنے مارنے پر