Brailvi Books

بھنگڑے باز کی توبہ
16 - 32
کہ میری ڈھٹائی کے مقابلے میں ان کا جذبۂ اصلاح کہیں زیادہ تھا۔ انہوں نے مجھے میرے حال پر چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ ان کی پیہم انفرادی کوشش کے نتیجے میں بالآخر میرا دل پسیج ہی گیا اور میں نے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں پڑھنا شروع کر دیا جہاں قراٰن پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی و روحانی تربیت بھی ہوتی رہی نیز عاشقانِ رسول کی صحبت کی برکت سے وقتاً فوقتاً دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضری کی سعادت بھی ملتی رہتی۔ ہفتہ وار اجتماع میں ہونے والے سنّتوں بھرے اصلاحی بیانات نے مجھے بہت متأثر کیا اور آخر میں ہونے والے ذکر اور رقت انگیز دعا نے تو میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا کر دیا میں نے رو رو کر اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی۔ کل تک ٹی وی کی محبت میں رونے والا فیشن کا دلدادہ مجھ جیسا گناہ گار آج مدنی ماحول کی برکت سے خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے میں رونے والا اور سرکار صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کی سنّتوں کا متوالا بن چکا تھا۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں علاقائی مشاورت میں مدنی انعامات کی ذمہ داری سرانجام دیتے ہوئے نیکی کی دعوت کی دھومیں مچا رہا ہوں۔ 
 اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد