Brailvi Books

بھنگڑے باز کی توبہ
15 - 32
نمازیں تو ایک طرف میں تو جمعے کی نماز کے لئے بھی مسجد کی حاضری سے محروم رہتا۔ شادی بیاہ کے بیہودہ فنکشنوں میں بصد شوق شرکت کرنا میرا وتیرہ اور ان میں گانوں پر ڈانس کرنا میرا طرۂ امتیاز تھا۔ نیز فلمیں ڈرامے دیکھنا، گانے باجے سننا، نت نئے فیشن اپنانا میری زندگی کا جُزْوِ لَایُنْفَک بن چکے تھے۔ فلموں ڈراموں سے دلچسپی کا عالم تو یہ تھا کہ ایک مرتبہ مالی حالات ابتر ہونے کی وجہ سے گھر والوں نے مجبوراً ٹی وی فروخت کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے گھریلو حالت اور وقت کی نزاکت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ٹی وی نہ بیچنے کی ضد شروع کر دی اور رونے لگا، ناچار گھر والوں کو میری بے حسی اور بے جا ہٹ دھرمی کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی پڑے اور ٹی وی بیچنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ الغرض زندگی کے ایام عصیاں میں گزرتے چلے جا رہے تھے۔ حسنِ اتفاق کہ ایک روز میری ملاقات دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی، انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے محبت بھرے انداز میں مجھے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں پڑھنے کی دعوت دی میرا دل شاید عصیاں سے سیاہ ہو چکا تھا شاید اسی وجہ سے ان کی نصیحت آمیز گفتگو کا میرے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے ان کی بات سنی اَن سنی کر دی۔ میری اس بے توجہی سے وہ مایوس نہ ہوئے اور وقتاً فوقتاً تشریف لا کر مجھے نیکی کی دعوت دیتے رہے مگر میں تھا کہ ہر بار ٹال دیا کرتا۔ مجھے اندازہ نہ تھا