قیمتی لمحات کے ضائع ہونے کا کچھ احساس نہ تھا۔ علمِ دین سے دوری کی وجہ سے نہ خوفِ خدا تھا، نہ شرمِ مصطفی، مَعَاذَاللہ اپنے ماں باپ کی بھی نافرمانی کیا کرتا تھا۔ پھر مجھ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہو گیا، ہوا یوں کہ ایک دن میں کہیں جانے کے لئے موٹرسائیکل رکشے میں سوار ہوا اس میں پہلے سے کچھ سبز عمامے والے اسلامی بھائی بھی سوار تھے وہ فیضانِ مدینہ شیخوپورہ میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جا رہے تھے۔ انہوں نے محبت بھرے انداز میں مجھے بھی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں ان کے مدنی حلیے اور گفتگو کے منفرد انداز سے پہلے ہی متأثر ہو چکا تھا لہٰذا ان کی دعوت قبول کر لی اور ہاتھوں ہاتھ اجتماع میں شریک ہو گیا۔ اجتماع میں مبلغِ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھر ابیان جاری تھا، میں توجہ سے سننے لگا، بیان کے پر تاثیر الفاظ میری سماعتوں کے راستے میرے دل میں اترتے چلے گئے۔ فکرِ آخرت سے متعلق بیان سن کر میری آنکھوں سے آنسوؤں کے دھارے بہ نکلے۔ میرے دل کی دنیا زیرو زبر ہو گئی۔ میں نے صدقِ دل سے گناہوں سے توبہ کرکے اپنے چہرے کو سنّتِ مصطفی کے نور سے منوّر کرنے کی نیت کر لی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے توبہ پر ایسی استقامت بخشی کہ بینڈ باجے بجانے کے گناہوں بھرے حرام روزگار کو ترک کر دیا، نیز ماں باپ کی فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ والد صاحب کے ہاتھ