عاقبت برباد کرتا ۔ الغرض رات دن گناہ کر کر کے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کیے چلا جا رہا تھا۔ وہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کرم فرمائے دعوتِ اسلامی اور بالخصوص امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ پر کہ جن کی بدولت میں وادیٔ عصیاں سے نکل کر نیکیوں کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ میری اصلاح کا سامان کچھ یوں ہوا کہ میٹرک کے دوران دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی نے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی ان کی پر خلوص دعوت نے نجانے مجھ پر کیا ایسا جادو کیا کہ میں انکار نہ کر سکا اور لبیک کہتے ہوئے اجتماع میں حاضر ہوگیا، وہاں کے نورانی ماحول میں میری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی ہر طرف سبز سبز عماموں کی بہاریں تھیں۔ باعمل اسلامی بھائیوں کی صحبتِ بابرکت سے میرے دل میں عمل کا جذبہ بیدار ہوا، فکرِ آخرت کی دولت نصیب ہوئی اور عشقِ رسول میں تڑپنے کا قرینہ مل گیا۔ اجتماع کے اختتام پر مانگی جانے والی رقت انگیز دعا میں میں نے اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کر لی۔ ہفتہ وار اجتماع میں پابندی سے شرکت کی برکت سے آہستہ آہستہ مدنی ماحول سے منسلک ہو گیا۔ خوش قسمتی سے انہی دنوں ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدرستہ المدینہ کا افتتاح ہوا میں چونکہ میٹرک کے امتحان سے فارغ ہو چکا تھا لہٰذا موقع غنیمت جان کر قراٰنِ پاک کی تعلیم کے ساتھ