{۴} فلموں کا رسیا
قصور (پنجاب، پاکستان) کے ایک گاؤں کیسر گڑھ میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں برے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے عصیاں بھری زندگی گزار رہا تھا۔ نماز جیسی اہم عبادت میں کوتاہی ، والدین کی نافرمانی ، بات بات پر نہ صرف توتکار بلکہ گالم گلوچ کرنا اور بالآخر لڑائی جھگڑے مول لینا میرے کردار کا حصہ تھا۔ صحبتِ بد کی نحوست نے میرے اطوار میں اس قدر بگاڑ پیدا کردیا تھا کہ میں نے چوری چکاری بھی شروع کر دی۔ فلموں ڈراموں کاتو ایسا رسیا ہو چکا تھا کہ پہلے پہل تو صرف دن ہی کا اکثر حصہ ہوٹلوں پر فلم بینی میں گزرتا تھا مگر پھر رفتہ رفتہ ایسا چسکا پڑا کہ میری راتیں بھی ہوٹلوں کی نذر ہونے لگیں۔ میرے اس طرزِ عمل کو دیکھ کر گھر والوں نے مجھے بار بار زبانی کلامی سمجھانے کی کوشش کی مگرمیں ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا۔ میرے اس رویے سے عاجز آ کر گھر والوں نے میری اصلاح کے لیے مختلف حربے بھی آزمائے، حتی کہ کئی بار تو رات کے وقت گھر کے دروازے پر اس غرض سے تالے بھی لگا ئے کہ میں باہر نہ جاؤں مگر ان تمام تر سختیوں کے باوجود میں دیوار پھلانگ کر حسبِ عادت ہوٹل پر پہنچ جاتا اور فلموں میں حیا سوز مناظر دیکھ کر اپنی