پڑوسیوں کو آواز دینے لگا۔تھوڑی ہی دیر میں سب جمع ہوگئے اور پوچھنے لگے : کیا پریشانی ہے؟میں نے جب بتایا کہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اپنی بیٹی سے میری شادی کرادی ہے اور وہ اپنی بیٹی کو میرے گھر چھوڑ گئے ہیں تولوگو ں نے بے یقینی سے پوچھا :کیا واقعی حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے تجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کرائی ہے؟میں نے کہا:اگر یقین نہیں آتا تو میرے گھر آکر دیکھ لو، ان کی بیٹی میرے گھر میں موجود ہے۔یہ سن کر سب میرے گھر آگئے ۔جب میری والدہ کو یہ معلوم ہوا تو وہ بھی فوراً ہی آگئیں اور مجھ سے فرمانے لگیں:اگر تین دن سے پہلے تو اس کے پاس گیا توتجھ پر میرا چہرہ دیکھنا حرام ہے۔میں تین دن انتظار کرتا رہا، چوتھے دن جب گیا اور اسے دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ حسن وجمال کا شاہکار تھی ، قرآنِ پاک کی حافظہ، حضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں کو بَہُت زیادہ جاننے والی اور شوہر کے حُقوق کو بَہُت زیادہ پہچاننے والی تھی۔اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا۔ نہ تو حضر ت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ میرے پاس آئے اور نہ ہی میں حاضِر ہو سکا ، پھر میں ہی ان کے پاس گیا۔ وہ بَہُت سارے لوگوں کے جھرمٹ میں جَلْوَہ فرماتھے ، سلام جواب کے بعد مجلس کے ختم ہونے تک انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہ کی،جب