کی اور دوبارہ گھر آ گیا۔میں گھر میں اکیلا ہی تھا، پھر میں نے زیتو ن کا تیل اور رو ٹی دستر خوان پر رکھ کر کھانا شروع ہی کیا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔میں نے پوچھا:کون؟آواز آئی:سعید۔میں سمجھ گیا کہ ضرور یہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ ہی ہوں گے۔ اتنی دیر میں وہ اندر تشریف لے آئے۔ میں نے عرض کی:آپ مجھے پیغام بھیج دیتے، میں خود ہی حاضر ہوجاتا۔فرمانے لگے:نہیں! تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ تمہارے پاس آیاجائے۔ میں نے عرض کی: فرمائیے!میرے لئے کیاحکم ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا: اب تم غیر شادی شدہ نہیں ہو، تمہاری شادی ہوچکی ہے، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ تم شادی ہوجانے کے بعد بھی اکیلے ہی رہو ، پھر ایک طرف ہٹے تو میں نے دیکھا کہ ان کی بیٹی ان کے پیچھے کھڑی تھی۔ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں چھوڑ آئے اور مجھے فرمایا:یہ تمہاری زوجہ ہے۔ اتنا کہنے کے بعد تشریف لے گئے۔ میں دروازے کے قریب گیا اور جب اطمینان ہوگیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ جاچکے ہیں تو واپس کمرے میں آ کراس شرم وحیا کی پیکر کو زمین پر بیٹھے ہوئے پایا۔
میں نے جلدی سے زیتون کے تیل اور روٹیوں والا برتن اٹھا کر ایک طر ف رکھ دیا تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکے۔پھر میں اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر اپنے