Brailvi Books

بیٹی کی پرورش
57 - 64
رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے پاس حاضِر ہوا توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے پوچھا: اتنے دن کہاں تھے؟میں نے عرض کی: میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھابس اسی پریشانی میں چند دن حاضِری کی سعادت حاصِل نہ ہو سکی ۔ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا: مجھے اطلاع کیوں نہیں دی  کہ میں بھی جنازے میں شرکت کر لیتا؟حضرت سیدنا ابو وداعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں:ا س پر میں خاموش رہا۔جب میں نے رخصت چاہی تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا: کیا دوسری شادی کرنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کی:حضور!میں بہت غریب ہوں، میرے پاس بمشکل چند درہم ہوں گے، مجھ جیسے غریب کی شادی کون کروائے گا۔تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرمانے لگے:میں تیری شادی کرواؤں گا ۔میں نے حیران ہوتے ہوئے عرض کی: کیا آپ میری شادی کرائیں گے؟فرمایا:ہاں!میں تیری شادی کراؤں گا۔پھرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد بیان کی اور حضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود وسلام پڑھا اور میری شادی اپنی بیٹی سے کرادی۔میں وہاں سے اٹھا او رگھر کی طر ف روانہ ہوا ۔میں اتنا خوش تھا کہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرو ں ، پھر میں سوچنے لگا کہ مجھے کس کس سے اپنا قرضہ وصول کرنا ہے ، اسی طر ح میں آنے والے لمحات کے بارے میں سوچنے لگا پھر میں نے مغر ب کی نمازمسجد میں ادا