پاک کی حافظہ تھی بلکہ حضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں کو بھی بَہُت زیادہ جاننے والی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ صورت کے ساتھ ساتھ حسنِ سیرت کی دولت سے بھی مالا مال تھی تو بے جا نہ ہو گا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ خلیفہ عبدالملک بن مَروان نے آپ سے آپ کی اس بیٹی کے لیے اپنے بیٹے ولید کی شادی کا پیغام بھیجا مگر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے انکار کر دیا ، خلیفہ نے بَہُت کوشش کی کہ کسی طرح آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ راضی ہوجائیں لیکن آپ برابر انکار فرماتے رہے، پھر وہ ظلم وسِتَم پر اُتَر آیا اور ایک سرد رات اس ظالِم نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کو 100 کوڑے مارے اور اُون کا جبہ پہنا کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ پر ٹھنڈا پانی ڈلوا دیامگر پھر بھی آپ نے اپنی بیٹی کا رشتہ نہ دیا۔ آپ نے اپنی بیٹی کو بچپن سے جو پاکیزگی و طہارت کا درس دیا تھا آپ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اسے دنیا کی چکا چوند میں بھول جائے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنی اس بیٹی کا نکاح اپنے ایک شاگرد حضرت سیدنا ابو وداعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ سے فرمایا جو انتہائی غریب تھے۔
حضرت سیدنا ابو وداعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ خود اپنی اس شادی کا واقعہ کچھ یوں بیان فرماتے ہیں کہ مَیں حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی محفل میں باقاعدگی سے حاضِر ہوا کرتا تھا،پھر چند دن حاضِر نہ ہوسکا۔ جب دوبارہ آپ