Brailvi Books

بیٹی کی پرورش
55 - 64
سیِّدَتُنا  فاطمہ زہرا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا  پر غمِ مصطَفٰے کا اِس قَدَرغَلَبہ ہوا کہ آپ کے لبوں کی مسکراہٹ ہی خَتْم ہو گئی! اپنے وِصال سے قبل صِرْف ایک ہی بارمُسکراتی دیکھی گئیں۔اِس کا واقِعہ کچھ یوں ہے: حضرت سیِّدَتُنا  خاتونِ جنّت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا  کو یہ تشو یش تھی کہ عُمر بھر تو غیر مَردوں کی نظروں سے خود کو بچائے رکھا ہے اب کہیں بعدِ وفات میری کفن پوش لاش ہی پر لوگوں کی نظر نہ پڑ جائے! ایک موقع پر حضرتِ سیِّدَتُنا  اَسماء بنتِ عمیس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا  نے کہا :میں نے حَبشہ میں دیکھا ہے کہ جنازے پر دَرَخْت کی شاخَیں باندھ کر ایک ڈَولی کی سی صُورَت بنا کر اُس پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ پھر اُنہوں نے کَھجور کی شاخیں منگوا کر انہیں جوڑ کر اُس پر کپڑا تان کر سیِّدہ خاتونِ جنّت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا  کو دکھایا۔ آپ بَہُت خوش ہوئیں اور لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔ بس یِہی ایک مسکراہٹ تھی جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصالِ ظاہِری کے بعد دیکھی گئی۔ (1)
بنتِ سعید بن مسیب کی پرورش
حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی صاحبزادی پیکرِ حُسْن وجَمال تھی، آپ نے اپنی بیٹی کی تربیت اس طرح فرمائی کہ وہ نہ صرف قرآنِ 
(1) پردے کے بارے میں سوال جواب، ص ۲۰۰  بحوالہ جذب القلوب مترجم، ص ۲۳۱