صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتیں جو اس زمانہ کی بالخصوص شہری عورتوں نے ایجاد کر لیا ہے اور اپنی زیبائش اور نُمائش میں غیر شرعی طریقے اور مذموم بدعات نکال لی ہیں، تو وہ عورتوں کی بہت زیادہ مَذمَّت فرماتیں۔(1)
معلوم ہوا فیشن کے نام پر ہر دور میں عورتوں نے کوئی نہ کوئی نیا کام ضرور کیا جس کی مذمت اس وقت کی صالحات نے اپنا فرضِ منصبی جان کر ضرور کی، لہٰذا آئیے!اسلامی تاریخ کے پربہار گلستان میں جھانک کر اپنی بزرگ خواتین کی حیاتِ طیبہ سے چند مدنی پھول چنتے ہیں کہ جن کی خوشبو سے ہم اپنی بیٹیوں کی پرورش کے دوران ان کی زِنْدَگیوں کو مہکا سکیں۔چنانچہ،
خاتونِ جنّت کی پرورش
سب سے پہلے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ امام الانبىا،محبوبِ كبرىا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنى شہزادی حضرت سیِّدَتُنا خاتونِ جنَّت، بى بى فاطمہ زہرا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا كى جو مدنی تربىت فرمائى ہر اسلامی بہن کو اسے پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔ اس لیے کہ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھیں، آپ کہیں سفر پر تشریف لے جانا چاہتے تو سب سے آخر میں اپنی
(1) عمدة القاری، ابواب صفة الصلوة، باب انتظار الناس قیام الامام العالم، ۴/ ۶۴۹، تحت الحدیث: ۸۶۹