Brailvi Books

بیٹی کی پرورش
52 - 64
فیشن کی خرابیاں
 فی زمانہ اسلامى بہنوں کے لباس میں فىشن کے نام پر جو  خرابىاں پیدا ہورہی ہىں وہ کسی پر مخفی نہیں۔حتی کہ  مذہبی ماحول سے وابستہ عورتيں بھی شادی بیاہ کی تقاریب و محافل میں ایسے لباس پہنتی ہیں کہ الامان والحفیظ۔ افسوس!صد افسوس! پردہ کرنا تو کجا! جن اعضاء کا چھپانا واجب ہے فیشن کے نام پر ان کو  بھی کماحقہ نہیں چھپایا جاتا۔ حالانکہ عورت سے مراد ہی چھپانے كى چىزہے۔اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلامی تہذیب سے ناطہ توڑ کر مغربی تہذیب سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔ کیونکہ اسلامی تہذیب میں تو قلب و نگاہ کو پاک رکھنے کی تاکید مروی ہے اور کبھی بھی اس طرح کی نام نہاد آزادی نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اُمُّ المومنين حضرت سَيِّدَتُنا عائشہ صِدّيقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے ارشاد فرمایا:اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم (اس بناؤ سنگھار کو) دیکھ لیتے جو عورتوں نے اَب اِیجاد کر لیا ہے تو ان کو (مسجد میں آنے سے)منع فرما دیتے۔(1)
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی (متوفی ۸۵۵ ھـ) اس حدیثِ پاک کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں:اگر اُمُّ الْمومنین حضرت سیِّدَتُنا  عائشہ 

(1)  بخاری،کتاب الاذان، باب انتظار الناس قیام الامام العالم،۱ / ۳۰۰، حدیث:۸۶۹