Brailvi Books

بیٹی کی پرورش
50 - 64
حیا ہے۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم (ارشاد)فرماتے ہیں:اَلْـحَيَاءُ مِنَ الْاِيمَانِ وَالْاِيمَانُ فِی الْـجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْـجَفَاءِ وَالْـجَفَاءُ فِی النَّار حَىا ایمان سے ہے اور ایمان جنّت میں ہے اور فحش بکنا بے اَدَبی ہے اور بے اَدَبی دوزخ میں ہے۔(1) مَا كَانَ الْفُحْشُ فِی شَیْءٍ قَطُّ اِلَّا شَانَهُ، وَلَا كَانَ الْـحَيَاءُ فِی شَیْءٍ قَطُّ اِلَّا زَانَهُ فحش جب کسی چیز میں دخل پائے گا اسے عیب دار کردے گا اور حیا جب کسی چیز میں شامل ہوگی اس کا سنگار کردے گی(2)۔(3)
گناہ گار کون؟
پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے!نابالغ شرعی احکام کا مکلف نہیں لہٰذا اس کا گناہ شُمار نہیں لىكن والدین یا سرپرست اگر بچوں كو اىسى جگہ لے گئے جہاں بے پردگی وبے حَىائى اور گانے باجے وغیرہ گناہوں کا سلسلہ ہے جیسا کہ فی زمانہ عام تقاریب کا حال ہے تواس لےجانے والے پراپنے گناہ کے ساتھ ساتھ اس نابالغ کو لے جانے كا گناہ بھی ہوگا۔نیز یہ بچہ یا بچی  جس کو بچپن ہی سے آپ اس

(1)  ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ماجاء فی الحیاء،۴۰۶/۳، حدیث:۲۰۱۶
(2)  ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ماجاء فی الفحش والتفحش، ۳۹۲/۳، حدیث:۱۹۸۱ بتغیر

(3)  فتاویٰ رضویہ،۲۲ /۲۱۰ تا ۲۱۵