Brailvi Books

بیٹی کی پرورش
49 - 64
 اور صحبتِ بد کے اَثَر میں تو بکثرت احادیثِ صحیحہ وارِد ہیں۔ ازاں جملہ یہ حدیثِ جلیل کہ مشکوٰۃِ حکمتِ نبوت کی نُورانی قندیل ہے۔فرماتے ہیں:اچھّے مُصَاحِب اور بُرے ہمنشین کی کہاوَت ایسی ہے جیسے مشک والا اور لوہار کی بھٹی کہ مشک والا تیرے لئے نفع سے خالی نہیں یا تَو تُو اس سے خریدے گا کہ خود بھی مشک والا ہوجائے گا ورنہ خوشبو تو ضرور پائے گا اور لوہار کی بھٹی تیرا گھر پھونک دے گی یا کپڑے جلادے گی یا کچھ نہیں تو اتنا ہوگا کہ تجھے بد بو پہنچے۔ اگر تیرے کپڑے اس سے کالے نہ ہوئے تو دُھواں تو ضَرور پہنچے گا۔(1)
فحش گیت شیطانی رَسْم اور کافِروں کی رِیت ہے۔ شیطان ملعون بے حَیا ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کمال حَیا والا۔ بے حَیائی کی بات سے حَیا والا ناراض ہوگا اور وہ بے حَیاؤں کا اُستاد انہیں اپنا مسخرہ بنائے گا۔حدیث میں ہے رسولُ اللہ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم (ارشاد)فرماتے ہیں:اَلْجَنَّۃُ حَرَامٌ عَلٰی كُلِّ فَاحِشٍ اَنْ یَّدْخُلَھَا۔ جنّت ہر فحش بکنے والے پر حَرام ہے۔(2)
 یُونہی بے ضَرورت وحاجَتِ شرعیہ لوگوں سے فحش کلامی بھی ناجائز وخلافِ

(1) بخاری، کتاب البیوع، باب فی العطار    وبیع المسک، ۲/ ۲۰، حدیث: ۲۱۰۱
(2) موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت وآداب اللسان،باب ذم الفحش والبذاء،۷ / ۲۰۴، حدیث:۳۲۵