اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾(پ۷،الانعام:۶۸)
ترجمۂ كنز الايمان: اور اگر شىطان تجھے بھلا دے تو ىاد آنے پر ظالموں مىں مت بىٹھ۔
تفسىرِ احمدى میں ہے:ظالم لوگ بدمذہب فاسِق اور كافِر ہىں ان سب كے ساتھ بىٹھنا منع ہے۔(1)
نازک شیشیاں
عورت مَوم کی ناک بلکہ رَال (چیڑ کا گوند) کی پڑیا بلکہ بارُود کی ڈبیا ہے،آگ كے ایک اَدْنیٰ سے لگاؤ میں بھَقْ سے ہوجانے (یعنی فوراً جل جانے)والی ہے۔عقل بھی ناقص اوردین بھی ناقص اور طینت (یعنی بنیاد) میں کجی(ٹیڑھا پَن) اور شہوت (خواہشِ نفس) میں مَرد سے سو حِصّہ بیشی(زائد) اور صحبتِ بد کا اَثَرِ مُسْتَقِل مَردوں کو بگاڑدیتاہے۔ پھر ان نازُک شیشیوں کا کیا کہنا جوخفیف(ىعنى معمولى سى)ٹھیس سے پاش پاش ہو جائیں۔ یہ سب مضمون یعنی ان عورات کا ناقِصاتُ العقل وَالدِّین اور کج طبع اورشہوت میں زائد اور نازُک شیشیاں ہونا صحیح حدیثوں میں ارشاد ہوئے ہیں
(1) تفسیراتِ احمدیہ، ص۳۸۸