Brailvi Books

بیٹی کی پرورش
47 - 64
 بنی اسرائیل کی تباہی کے اسباب
بنى اسرائىل مىں پہلى خرابى جو آئى وہ ىہ تھى كہ ان مىں اىك شخص دوسرے سے ملتا تو اس سے كہتا:يَا هٰذَا!اِتَّقِ اللهَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَاِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكَ یعنی اے شخص! اللہعَزَّ  وَجَلَّ سے ڈر اور اپنے كام سے باز آ كہ ىہ حلال نہىں۔ پھر دوسرے دن اس سے ملتا اور وہ اپنے اُسى حال پر ہوتا تو ىہ اُس کو اپنے ساتھ كھانے پىنے اور پاس بىٹھنے سے نہ روكتا۔ پس جب وہ ىہ کام کرنے لگے تو اللہ تعالىٰ نے ان كے دل باہم اىك دوسرے پر مارے كہ منع كرنے والوں كا حال بھى اِنہى خطا والوں كے مِثل ہوگىا۔ پھر فرماىا: 

لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیۡسَی ابْنِ مَرْیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعْتَدُوۡنَ ﴿۷۸﴾ کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوْنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئْسَ مَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾ 
ترجمۂ كنز الايمان: بنى اسرائىل كے كافِر لعنت كىے گئے داود و عىسٰى بن مرىم كى زبان پر، ىہ بدلہ ہے ان كى نافرمانىوں اور حد سے بڑھنے كا، وہ آپَس مىں اىك دوسرے كو برے كام سے نہ روكتے تھے، البتہ وہ سخت بُرى حركت تھى كہ وہ كرتے تھے۔(1)


(1) ابوداود،کتاب الملاحم،باب الامروالنھی، ۴ /۱۶۲،حدیث:۴۳۳۶