آداب وحیِ اِلٰہی کی روشنی میں طے پاتے ہیں اور وحی کے نزول کا دروازہ چونکہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے،لہٰذا اب اسلامی معاشرے کے جو بنیادی خدو خال سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبانِ حق ترجمان سے بیان ہوئے ہیں ان میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں، البتہ !ہر دور کی ضَروریات کے مطابق پیدا ہونے والے جدید مسائل کا حل بھی قرآن و سنّت کے بیان کردہ اصولوں سے ہی اخذ کیا جاتا ہے۔ اگر یہ حل قرآن و سنّت کے مخالف نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی فلاح و صلاح سے تعلق رکھتا ہو تو اسے قبول کر لیا جائے گا ورنہ رد کر دیا جائے گا۔ چنانچہ،
ایک اِسلامی و فلاحی مُعَاشَرے کی بَقا کے لیے اِنتہائی ضَروری ہے کہ اس کے اَفراد کی تربیّت پر بھرپور توجہ دی جائے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس کا آغاز ماں کی گود سے ہوتاکہ اس تربیّت کے اَثرات زِنْدَگی بھر بچے پر مُرتَّب رہیں۔ اس تَناظُر میں بیٹی کی بہترین پرورش کی اَہَمِیَّت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ اگر آج اس کی تربیّت میں کوئی کمی رہ گئی تو اس کا اِزالہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے گا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!ہم مسلمان ہیں اور ایک اسلام پسند معاشرے کا حصہ ہیں، ہمیں چاہئے کہ کبھی بھی بیٹی کی پرورش میں اس کی مدنی تربیت سے کوتاہی نہ برتیں، اسے معاشرتی برائیوں کی قباحتوں سے کماحقہ آگاہ کریں تاکہ وہ ان سے بچ سکے۔