قطع تعلقی کر لیں گے یا اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کریں گے تو آپ کی اولاد بالخصوص بیٹیوں کے ذہنوں سے ان رشتوں کا تقدس ہمیشہ کیلیے خَتْم نہیں تو کم ضَرور ہو جائے گا،لہٰذا خود بھی یاد رکھئے اور اپنی بیٹی کو بھی یہ بات خوب باور کرا دیجئے:
` صِلہ رحمی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ راضی ہوتا ہے کيونکہ صلہ رحمی خود اسی کا حکم ہے۔
` صِلہ رحمی سے فِرشتے خوش ہوتے ہيں۔
` صِلہ رحمی کرنے والے کی لوگ تعريف کرتے ہيں۔
` صِلہ رحمی سے شیطان لعين غمناک ہوتا ہے۔
` صِلہ رحمی سے عمر اور رزق ميں برکت ہوتی ہے۔
` صِلہ رحمی سے دلی اطمينان حاصل ہوتا ہے اور حديث شريف ميں بھی ہے کہ (فرائض کی تکمیل کے بعد)افضل اعمال وہ ہيں جو مومن کی خوشی کا باعِث بنيں۔(1)
` صِلہ رحمی سے مَحبَّت ميں زيادتی ہوتی ہے، کيونکہ جن لوگوں پر اس نے احسان کئے ہوں گے وہ سب اس کی خوشی و غم ميں شريک ہوں گے اور اس کی مدد بھی کرتے رہيں گے جس کی وجہ سے باہمی محبت بڑھے گی۔
(1) المعجم الکبیر، ۱۱/ ۵۹، حدیث ۱۱۰۷۹