گے،کیونکہ والدین اگر نیک اور گناہوں سے بچنے والے ہوں تو ان کی برکات ان کے بچوں کو بھی نصیب ہوتی ہیں۔
خاندان سے مُتَعَلّق آداب
پیارے اسلامی بھائیو!اس سے مراد وہ آداب ہیں جو ایک مَضْبُوط و خُوشحال خاندان کی بَقا کے لیے اِنْتِہائی ضَروری ہیں۔مثلاً وَالِدَین کا اَدَب و اِحترام اور دیگر چھوٹوں بڑوں کے ساتھ حُسنِ سُلوک، صِلہ رحمی (رِشْتہ داروں سے اچھے سُلُوک)کی فضیلت اور قطع تعلقی کی مَذمّت وغیرہ۔ ان آداب کے بجا لانے کی بنا پر ایک بیٹی خاندان بھر کی آنکھوں کا تارا بن جاتی ہے، لہٰذا والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی پرورش میں ذَرَّه بھر کوتاہی نہ ہونے دیں اور بچپن ہی سے اس کی اسلامی تربیّت کا ایسا اہتمام کریں کہ ہر کوئی ان کی بیٹی کے حُسْنِ سُلُوک کی تعریف کرے نہ کہ اس کی بَدسُلُوکی و بے اَدَبی اور بدکلامی کاہر طرف چرچا ہو۔
بچے بالخصوص بیٹیاں چونکہ والدین سے دیگر رشتے ناطوں کی پہچان سیکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سیکھتی ہیں کہ انکے والدین اپنے قرابت داروں سے کس طرح پیش آتے ہیں،لہٰذا اگر آپ اپنے بعض قرابت داروں سے صِلہ رحمی کے بجائے