نیز ایک فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہےکہ پاکیزگی نصف ایمان ہے۔(1)اور یہ مروی ہے کہ بُنِیَ الدِّیْنُ عَلَی النَّظَافَة یعنی دین کی بنیاد پاکیزگی پر ہے۔(2) یہاں طہارت سے صرف کپڑوں کا صاف ہونا ہی مراد نہیں بلکہ دل کی صفائی بھی مراد ہے،اس لیے کہ نَجاست صرف بدن یا کپڑوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ باطِن کی صفائی بھی شریعت کو مطلوب ہےکیونکہ جب تک باطِن پاک نہ ہو عِلْمِ نافِع (نَفْعْ بخش عِلْم)حاصِل نہیں ہوتا اور نہ ہی انسان علم کے نور سے روشنی پاسکتا ہے،لہٰذا بیٹی کی پرورش کے دوران والدین پر لازم ہے کہ وہ بیٹی کے ظاہر کی پاکی و طہارت کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی پاکیزگی پر بھی بھرپور توجہ دیں تا کہ اس کا دل بُری صِفات سے پاک رہے۔ مثلاًحسد،تکبر،ریا کاری، عجب و خود پسندی، جھوٹ، غیبت ،چغلی،گالی گلوچ، امانت میں خیانت ،بدعہدی وغیرہ اور ان کے دنیا و آخرت میں نقصانات سے خوب آگاہ کریں تاکہ بیٹی ان ہلاک کر دینے اور جہنّم میں لے جانے والے گناہوں سے بچ سکے۔مگر یاد رکھئے!تربیت اس وقت ہی فائدہ دے گی جب آپ خود بھی ان باطنی گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں
(1) ترمذی،کتاب الدعوات، ۵/۳۰۸، حدیث:۳۵۳۰
(2) الشفاء ، الباب الثانی فی تکمیل محاسنه،فصل واما نظافة جسمه…الخ، ۱ /۶۱