فرض ہونے کی صُورت میں روزوں کے ضَروری مسائل، جس پر زکوٰۃ فرض ہو اُس کے لئے زکوٰۃ کے ضَروری مسائِل، اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے، نکاح کرنا چاہے تو اسکے، تاجر کو خرید و فروخت کے،نوکری کرنے والے کو نوکری کے، نوکر رکھنے والے کو اِجارے کے، وَعلٰی ھٰذَا الْقِیاس (یعنی اور اسی پر قِیاس کرتے ہوئے) ہر مسلمان عاقِل و بالغ مردو عورت پر اُس کی مَوجودہ حالَت کے مُطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عَین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب (باطِنی مسائل) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ (باطِنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہ اوران کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر، ریاکاری،حَسَد وَغَیْرهَا اوران کا علاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔ مُہلکات یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی چیزوں جیسا کہ جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان وغیرہ کے بارے میں ضَروری معلومات حاصل کرنا بھی فرض ہے تاکہ ان گناہوں سے بچا جا سکے۔(1)
اِمامِ اَجَلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:عمل سے پہلے علم ضروری ہے کیونکہ عمل کے فرض ہونے کی وجہ سے اس کا علم حاصل
(1) غیبت کی تباہ کاریاں، ص ۵