Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
50 - 53
زیب و زینت پر خصوصی توجّہ د ے گا۔ گھر کی اِک اِک چیز کو صاف وآراستہ کرنے کی کوشش کریگا ۔ اب تُو خوب سوچ اور سمجھ اور غور و فکر کر کہ میں نے کس جانب اشارہ کیا ہے ۔تُوتَو بڑاسمجھدار اور فہیم ہے۔ اور عقل مند کے لیے تَواشارہ ہی کافی ہے ۔ رسولوں کے تاجدار ، غیبوں سے خبردار باذنِ پروردگار عزَّوجلْ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم کا فرمانِ مشکبارہے ۔
اِنَّ اللہَ لَایَنْظُرُاِلٰی صُوَرِکُمْ وَلَا اِلٰی اَعْمَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَنِیَّا تِکُمْ
اﷲ تعالیٰ تمھاری شکل و صورت اور تمھارے ظاہری اعمال کو نہیں دیکھتا ۔وہ تَو تمھارے دلوں اور تمھاری نیّتوں پرنظر فرماتا ہے ۔
( سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب القناعۃ ج ۴ ص ۴۴۳ رقم الحدیث ۴۱۴۳ دارالمعرفۃ بیروت)
    اگر تُو احوالِ قلب کے متعلق علم کا ارادہ رکھتا ہے تو '' احیا ء العُلُوم '' اور ہماری دیگر تصانیف کا مطالعہ کر ۔ کیونکہ کیفیاتِ قلب سے آگاہی حاصل کرنا تو فرضِ عین ہے ۔ جبکہ دیگر عُلُوم کا حُصول فرضِ کفایہ ہے ۔مگر اس قدر علم حاصل کرنا فرض ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض و اَحکام کو کامل وبہتراور اچھے طریقے سے سر انجام دیا جاسکے ۔ اﷲ تعالیٰ تمھیں یہ علم حاصل کرنے کی توفیقِ رفیق مرحمت فرمائے ۔
حرص و طمع سے دوری
    آ ٹھو یں نصیحت:دنیاوی ساز وسامان میں سے اتنا مال وزر اپنے پاس جمع رکھ، جو تیرے لیے ایک سال کے اخراجات و ضرویات کے لیے کافی ہو ۔ جیسا کہ محبوبِ ربّ العزَّت ، قاسمِ نعمت ، مالکِ جنّت، عزَّوجلْ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم اپنی بعض ا زواجِ مطہَّرات رضی اﷲ تعالیٰ عنھن کے لیے ایسا ہی کرتے ۔اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم یہ دعا فرماتے ۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ قُوْتَ آلِ مُحَمَّدٍ کَفَافاً
Flag Counter