Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
48 - 53
کمائی سے پیش کیے گئے ہیں ۔ اس لیے کہ عطیّات و تحائف میں سے کسی چیز کی طرف بھی دل کا مائل اور راغب ہو نا اور اس کی لالچ و طمع رکھنا دین میں بگاڑ پیدا کرتا ہے ۔( اوراس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ) کہ ان کے لیے دل میں نرم گوشہ ، ظلم میں تعاون اور طرفداری جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ دین میں بگاڑو فساد ہی تو ہے۔ اس کا کم سے کم نقصان یہ ہے کہ جب تُو ان کے تحائف و نذرانے قبول کریگا اور ان کے منصب سے فائدہ اُٹھائے گاتو لازماً ان سے مُحبّت بھی کرنے لگے گا۔ اور آدمی جس سے مُحبّت کرتا ہے ،اس کی درازی عمر اور سلامتی و بقا بھی چاہنے لگتا ہے۔ اور ظالم کی سلامتی و بقا کو پسند کرنا درحقیقت مخلوقِ خدا عزَّوجلْ پر ظلم و ستم کرنا ہے۔ اور یہ دنیا کو ویران و برباد کرنے کے مترادف ہے۔ تَو اس سے بڑھ کر دنیا و آخرت کے لیے کو ن سی چیز زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے ؟خبردار ! شیطان لعین ومردودکے فریب میں مت آنا ۔اور نہ ہی ان لوگوں کے ،جو کہتے ہیں کہ ان ( اُمَراء سے ) درہم و دینا ر لے کر فقراء و مساکین میں تقسیم کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ اپنا مال نافرمانی اور گناہوں کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں ۔ لہٰذا اسی مال کو غریب و نادار مسلمانوں پر خرچ کرنا اس سے کہیں بہتر ہے۔ حالانکہ شیطان ملعون اس وار سے نہ جانے کتنے لوگوں کو تباہ وبرباد کرچکا ہے ۔ اس بحث کو مزید دیگر آفتوں کی تفصیل کے ساتھ ہم نے '' اِحیا ء العُلُوم '' میں ذکر کر دیا ہے ۔تفصیل کے لیے وہاں سے دیکھ لو ۔

    وہ چار چیزیں جن پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے ،یہ ہیں ۔
اللہ تعالیٰ سے تعلق کا طریقہ
    پا نچو یں نصیحت:ہر وہ معاملہ جو تیرے اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان ہو، وہ اس انداز و ادا سے ہو ،کہ اگر تیرا غلام وہ کام کرتا، تَو تُو اس سے خوش ہو جاتا، اس پر ناراضگی اور غصّے کا اظہار نہیں کرتا ۔اور جب تُو اپنے حکم کی خلاف ورزی پر ، اپنے مجازی غلام سے راضی
Flag Counter