Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
47 - 53
وہ(وعظ و بیان ) واعِظ و مُبلِّغ اور ہر سننے والے کے لیے وبال کا باعث ہے۔ بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ وہ ( واعِظ و مُبلِّغ ) مختلف رنگ بدلنے والا جن اور شیطان ہے۔ جو لوگوں کو سیدھی راہ سے دور کرکے انہیں ہلاکت و رسوائی، تباہی و بربادی کے گڑھے میں پھنک دیتا ہے ۔پس لوگوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے واعظ سے دور بھاگیں کیونکہ دین کو نقصان جتنا ایسے واعظ پہنچاتے ہیں اتنا شیطان بھی نہیں پہنچاتا۔ لہٰذا جسے قوت و طاقت حاصل ہو، اس پر یہ لازم اورضروری ہے کہ وہ ایسے ( فتنہ و فسا د پھیلانے والے ) واعظ کو (اگر ممکن ہو تَو )مسلمانوں کے منبرسے نیچے اُتار دے ، اور اسے ایسا ( وعظ وبیان) کرنے سے ( نہایت سختی سے ) باز رکھے ۔کیوں کہ ایسا کرنا
اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر
یعنی نیکی کی دعوت دینا اوربرائی سے منع کرنا ہی ہے ۔
اُمراء سے میل جول؟
    تیسری نصیحت :جن کاموں سے تجھے دور رہنا ہے، ان میں سے تیسرا اَمر یہ ہے کہ تواُمَراء وسلاطین سے میل جول نہ رکھے بلکہ ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ کیو ں کہ ان کی طرف دیکھنا ، ان کے پاس بیٹھنا ، ان کی ہم نشینی اختیار کرنا بہت بڑی آفت و مصیبت ہے ۔اور اگر کبھی ان کے ساتھ مل بیٹھنے کا اتفاق ہو، تو ہرگز ہر گز ان کی تعریف و توصیف نہ کرنا۔ کیوں کہ جب کسی ظالم و فاسق کی تعریف کی جاتی ہے، تو اﷲ تعالیٰ سخت ناراض ہو تا ہے۔ اور جو ظالموں اور فاسقوں کی درازی عمر کی دعا کرتا ہے ،گویا اس بات کو پسند کرتا ہے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو ۔
اُمراء کے تحفے یا شیطان کا وار؟
    چو تھی نصیحت :منع کردہ اُمور میں سے آخری یہ ہے کہ اُمَراء سے کسی قسم کے تحائف و نذرانے قَبول نہ کرے۔ اگر چہ یہ بات تیرے علم میں ہو کہ یہ حلال کی
Flag Counter